حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی کے شعبۂ امورِ کتب خانہ سے منسوب ایک دستاویز کی تصویر سامنے آئی ہے، جس میں تقریباً 100 مصنفین کے نام درج ہیں۔ سعودی محقق اور انسانی حقوق کے کارکن عبداللہ العودہ نے بھی یہ فہرست سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔

فہرست میں معروف اسلامی مفکرین کے نام
رپورٹس کے مطابق، اس فہرست میں ابوالحسن علی ندوی، ابوالاعلیٰ مودودی، مالک بن نبی، یوسف قرضاوی اور محمد غزالی کے علاوہ مصطفیٰ سباعی، عبدالوھاب خلاف، عبدالعزیز الطریفی، سفر الحوالی، سلمان العودہ اور عوض القرنی کے نام بھی شامل ہیں۔
ان شخصیات کا تعلق اسلامی دنیا کے مختلف علمی اور فکری حلقوں سے ہے۔ ان میں بعض معروف مصنفین ہیں، جبکہ بعض سعودی عرب کی مذہبی اور علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان ناموں کی شمولیت نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ ان کی کتابوں کو محدود کرنے کے لیے کون سے معیارات اپنائے گئے ہیں۔
پابندی کے لیے کیا معیار مقرر کیا گیا ہے؟
اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ہر مصنف کی تمام کتابوں کو محدود کیا گیا ہے یا صرف بعض مخصوص کتابیں اس فہرست میں شامل ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہونا ضروری ہے کہ اس فیصلے کی بنیاد علمی و فکری جائزہ ہے یا یونیورسٹی کی داخلی انتظامی پالیسی۔
اب تک زیرِ بحث رپورٹوں میں اس فہرست کے پس منظر اور اس کے معیار کے بارے میں یونیورسٹی کی جانب سے کوئی واضح سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ اس لیے متعلقہ حکام کی جانب سے مستند وضاحت اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے اہم ہے۔
اسلامی علمی حلقوں میں معروف کتابیں بھی زیرِ بحث
فہرست میں شامل بعض مصنفین کی کتابیں برصغیر، خصوصاً ہندوستان اور پاکستان کے دینی و علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ ابوالحسن علی ندوی اور ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں سے مختلف ممالک کے طلبہ اور محققین واقف ہیں۔ تاہم کسی مصنف کی علمی شہرت یا اعزازات اس کی تمام تحریروں کی توثیق نہیں سمجھے جا سکتے، اسی طرح کسی کتاب تک رسائی محدود کرنے کے فیصلے کی وجوہات واضح کرنا بھی ضروری ہے۔
یہ بھی ابھی پوری طرح واضح نہیں کہ فہرست میں شامل مصنفین کی کون کون سی کتابیں زیرِ پابندی ہیں اور آیا یہ پابندی صرف یونیورسٹی کی لائبریری تک محدود ہے یا دیگر تعلیمی سرگرمیوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
مطالعے اور تحقیق کی آزادی کا سوال
اس فہرست کے سامنے آنے کے بعد علمی و فکری حلقوں میں یہ بحث بھی اہمیت اختیار کر رہی ہے کہ تعلیمی اداروں میں علمی نگرانی اور مختلف نظریات تک رسائی محدود کرنے کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر مختلف مصنفین کی کتابوں کو واضح وجوہات بتائے بغیر طلبہ کی دسترس سے دور رکھا جائے تو انہیں مختلف فکری نظریات سے واقف ہونے اور ان کا تنقیدی مطالعہ کرنے کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب، تعلیمی اداروں کو اپنی لائبریریوں اور نصاب کے لیے ضابطے مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ تاہم ایسے فیصلوں میں معیار کی وضاحت، پابندی کی حدود اور متعلقہ علمی وجوہات سامنے لانا اہم سمجھا جاتا ہے۔
مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی سے منسوب اس فہرست کے حوالے سے اب بھی کئی سوالات جواب طلب ہیں: کیا یہ محض لائبریری کے داخلی ضوابط کا حصہ ہے یا بعض فکری و دینی نظریات تک رسائی محدود کرنے کی وسیع تر پالیسی کی عکاسی کرتی ہے؟ متعلقہ حکام کی وضاحت ہی ان سوالات کا جواب دے سکتی ہے۔










آپ کا تبصرہ